عیار یاروں کا یار
عیار یاروں کا یار اگر یار عیار نہ ہو تو پھر کہاں کا یار ،یاری اور عیاری کا چولی دامن اوہ ہو سوری جی چولی دامن نہیں بلکہ کرتا پاجامہ کا ساتھ ہوتا ہے۔(اگر یار مذکر ہو تو)۔خیر ہمیں اس سے کیا غرض ،چولی ہو کہ کرتا،یہاں تو بات ہو رہی ہے عیاری کی،ایک یار اور اسکی عیاری کی، اگر آج ٹارگٹ نہ کرسکے تو تم دونوں اپنی شکل مت دکھانا مجھے،مینیجر برس پڑا۔(ہاں ہم تو مرے جارہے ہیں اسے اپنی شکل دکھانے) یار ،ہماری شکل بھی ایسی نہیں کہ کو ی۶ ہم پر مر مٹے۔اور یہ باس کہ رہا ہے اپنی شکل مت دکھانا،اب ہم اپنی شکل کا اچار ڈالیں،اسکو نا دکھایں تو کسکو دکھایں ،اجو کو ہمیشہ قلق رہتا تھا اپنی کم صورتی کا، چلو بھر پانی میں ڈوب مر،یہاں نوکری کے لالے پڑے ہیں اور تجھے بڑی فکر پڑی ہے عشق کے پینچ لگانے کی،تھوڑا دماغ لگا کہ کیسے کرینگے ٹارگٹ،مجو نے اسکے سر پر دو لگاے اجو سر سہلانے لگا۔ میرادل کر رہا ہے کہ ایک پسٹل لوں اور ڈھایں کروں باس پر ،میرا تو اب یہی ٹارگٹ لگ رہا ہے فی الحال،کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد اجو بولا،ہاں بڑا آیا تو نشانہ باز،مہابھارت کے ارجن کی اولاد،ارے او،تجھے سیلس کا ٹا...