بگلہ بھگت مزاحیہ تحریر

بگلا بھگت 
ہمیں" بگلا بھگت "کو ڈھونڈنے تھوڑا پیچھے جانا پڑا۔لیکن گھبرا ئیے نہیں ،ہم زیادہ پیچھے نہیں لے جایں گےکہ آپ لوگ واپس ہی نہ آسکیں۔
دراصل یہ ہمارے کالج کے دنوں کی بات ہے ۔ کالج ہمارے گھر سے اچھا خاصا دور تھا۔ہمارا گھر مشرق تو کالج مغرب میں واقع تھا۔آنے جانے کی ہمیشہ سے تکلیف تھی۔حالانکہ بس کی سہولت تو تھی ،مگر ہمیں اس بس سے زیادہ اپنی گیارہ نمبر کی بس پر زیادہ بھروسہ تھا۔اس لۓ اکثر پیدل ہی جایا کرتے تھے۔
اس دن بھی کالج بارہ بجے ختم ہوا اور ہم اپنی فرینڈ کے ساتھ نکلے،بارش ہلکی ہلکی ہورہی تھی ۔ہماری فرینڈ نے کہا کہ چلو،شیرنگ آٹو لےلیتے ہیں۔
ہم ٹہرے ازل کے معصوم،شیرنگ آٹو کی الف ب سے بھی ناواقف،ہامی بھرلی۔آٹو ملا تو ہماری بگلی بھگت فرینڈ جلدی سے کارنر والی سیٹ پر بیٹھ گئ اور ہمیں بازو والی سیٹ پر بٹھا دیا۔ہم ابھی سنبھل کر بیٹھے بھی نہیں تھے کہ دوسری جانب سے ایک نوجوان بیٹھنے لگا،ہماری تو سٹی گم ہوگئی،حواس باختہ ہوگۓ۔اس نے جیسے ہی آٹو میں اپنا سر  ڈالاہم نے اتنی ہی تیزی سے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے اپنا آپ کو آٹو سے باہر نکالا،ہماری دشمن نما فرینڈ بھی دبی دبی مسکراہٹ کے ساتھ باہر آگئ۔ہمارا غصہ سے برا حال ہو چکاتھا۔چونکہ ہم نقاب میں تھے وہ ہمارے تاثرات نہیں دیکھ سکی۔ہم سیدھے آگے بڑھتے جارہے تھے۔پیچھے آٹو والا آوازیں دۓ جارہا تھا،"باجی ،ہم انہیں سامنے بٹھالیں گے" لیکن ہم نے اسکی ایک نہ سنی۔کبھی کبھی تو ہم اپنے آپ کی بھی نہیں سنتے ،اسکی کیا خاک سنتے۔خیر ،بارش بہت تیز ہو گئ تھی۔ہم نے کہا،ہم سایکل رکشہ سے جائیں گےہماری فرینڈ بھی خاموشی سے رکشہ میں بیٹھ گئ۔ رکشہ راں بیچارہ جتنا تیز ہو سکتا تھا تیز چلانے کی کوشش کر رہا تھا مگر بارش نے بھی جیسے ٹھان لی تھی،ہمیں سر سے پیر تک گیلا کرنے کی،رکشہ میں بیٹھ کر بھی ہم بھیگ ہی رہے تھے،بلکہ زیادہ بھیگ رہے تھے چونکہ بارش سیدھا ہم پر ہی پڑ رہی تھی۔ہمارا غصہ ،شرمندگی سے برا حال ہو رہا تھا جبکہ ساتھ بیٹھی وہ بگلا بھگت برابر ہنسے جارہی تھی ۔جس طرح گھر تک پہنچے اسکا حال کیا بتایئں،رکشہ میں بیٹھنے کے باوجود ہم بھیگنے سے بچ نہ پاۓ تھے۔ہماری فرینڈ بھی بھیگی بلی  بنی تھی۔
اب سوچتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ شاید اسکی بھی اتنی غلطی نہیں تھی۔اس نے پہلے اپنی سیفٹی دیکھی تھی ۔اس" دنیا جگت" میں "بگلا بھگت" نہ بنیں تو جی کیسے سکیں گے۔
اب مزے کی بات تو یہ ہے کہ وہ بگلہ بھگت اب بھی ہماری فرینڈ ہے ۔اب آپ کہۓ کہ یہ ہماری سادہ لوحی ہے کہ اسکی مکاری؟۔ختم شد

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

کچھ عمیرہ احمد کے ناول پیر کامل کے بارے میں

Gham e Mustafa

Rishtey..... 😎