اشاعتیں

نام میں کیا رکھا ہے

نام میں کیا رکھا ہے  یہ قول جناب شیکسپیر  صاحب کا ہے کہ نام میں کیا رکھا ہے ۔گلاب کو جس نام سے بھی پکارو ،گلاب گلاب ہی رہے گا ۔لیکن ہمارے خیال میں شیکسپیر صاحب کچھ سادہ لوح تھے شاید ،ورنہ ایسی بات نا کرتے ۔کیونکہ نام ہی میں تو سب کچھ رکھا ہے ۔ہماری پہچان نام ہی سے ہو تی ہے ۔سوچنے کی بات ہے کہ نام نا ہو تو ہم ایک دوسرے کو پکاریں گے کیسے ،شیکسپیر صاحب کو اتنا نہیں پتا تھا ۔وہ گلاب ہی میں اٹک گے۶  لیکن  گلاب کے ساتھ کانٹے ،ڈالی ،پتہ ،تنا ،جڑ  وغیرہ بھی تو ہوتی ہے۔گلاب اپنی خوشبو سے پہچان لیا جایگا لیکن پتا،جڑ بیچارے کیا کرینگے ۔  وہ تو شیکسپیر ہی کو کوسینگے کہ نامعقول صرف گلاب کی بات کی ،ہم بھی تو تھے ،ہمیں بے نام و نشان کرے گا کیا ۔تو بس ثابت یہی کرنا تھا کہ نام کی اہمیت ہے ۔نام کی اہمیت نا ہو تی تو یہ محاورہ نا بنتا کہ ,"نام پہ آم بکتے ہیں » اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ برانڈ کی اہمیت ہو تی ہے آج کل جو برانڈ کانشس والا ٹرینڈ چل پڑا ہے تو اسی وجہ سے کہ برانڈ پہ آم ہمارا مطلب ہر چیز بکتی ہے ۔ چاہے وہ کپڑے ہوں ،جوتے ،پرس ،جیولری  ہو یا پھر مٹی ،دھول...

عیار یاروں کا یار

عیار    یاروں کا یار  اگر یار عیار نہ ہو تو پھر کہاں کا یار ،یاری اور عیاری کا چولی دامن اوہ ہو سوری جی چولی دامن نہیں بلکہ کرتا پاجامہ کا ساتھ ہوتا ہے۔(اگر یار مذکر ہو تو)۔خیر ہمیں اس سے کیا غرض ،چولی ہو کہ کرتا،یہاں تو بات ہو رہی ہے عیاری کی،ایک یار اور اسکی عیاری کی، اگر آج ٹارگٹ نہ کرسکے تو تم دونوں اپنی شکل مت دکھانا مجھے،مینیجر برس پڑا۔(ہاں ہم تو مرے جارہے ہیں اسے اپنی شکل دکھانے)  یار ،ہماری شکل بھی ایسی نہیں کہ کو ی۶ ہم پر مر مٹے۔اور یہ باس کہ رہا ہے اپنی شکل مت دکھانا،اب ہم اپنی شکل کا اچار ڈالیں،اسکو نا دکھایں تو کسکو دکھایں ،اجو کو ہمیشہ قلق رہتا تھا اپنی کم صورتی کا، چلو بھر پانی میں ڈوب مر،یہاں نوکری کے لالے پڑے ہیں اور تجھے بڑی فکر پڑی ہے عشق کے پینچ لگانے کی،تھوڑا دماغ لگا کہ کیسے کرینگے ٹارگٹ،مجو نے اسکے سر پر دو لگاے اجو سر سہلانے لگا۔ میرادل کر رہا ہے کہ ایک پسٹل لوں اور ڈھایں کروں باس پر ،میرا تو اب یہی ٹارگٹ لگ رہا ہے فی الحال،کافی دیر کی سوچ بچار کے بعد اجو بولا،ہاں بڑا آیا تو نشانہ باز،مہابھارت کے ارجن کی اولاد،ارے او،تجھے سیلس کا ٹا...

سب کی آتی نہیں ہماری جاتی نہیں ایک مزاحیہ کہانی

سب کی آتی نہیں ہماری جاتی نہیں سب کی آتی نہیں ہماری جاتی نہیں ،یہ کیا آتی نہیں جاتی نہیں لگا رکھا ہے۔وہ بڑبڑارہی تھی کہ شانو جھلا اٹھی۔آپ کو دیکھنے آرہے ہیں لڑکے والے،امی نے آپ کو تیار رہنے کے لیے کہا ہے۔ آپو،ویسے کیا آپ دیکھنے والی چیز ہیں؟ ہاں ٹکٹ لگانے کا سوچ رہی ہوں۔مانو جل کر بولی۔ مہمان آچکے تھے۔مانو مکمل تیاری میں تھی۔آپ کا نام ؟ نام؟نام میں کیا رکھا ہے آنٹی جی، (آپ کو تو دھن دولت سے غرض ہوگی۔) جی مانو ۔ مانو ،برا مت ماننا بیٹا،یہ نام تمہارا نہیں بلی کا زیادہ لگ رہا ہے۔ جی جی،(بلی کے خاندان سے ہی ہوں ،پنجہ جھاڑ آپ کے پیچھے پڑ جاو۶ں گی دیکھ لینا۔) کیا پکا لیتی ہو؟ جی کسی کا بھی دماغ ، جی ؟ آں سب پکاتی ہوں ۔ اچھا کیا پڑھتی ہو۔؟ (آپ جیسوں کی نیت اچھے سے پڑھ لیتی ہوں۔) جی بس ،اخبار ، اوہ،ہمارے بیٹے نے انجینیرنگ کیا ہوا ہے کہتے ہوے۶ آنٹی کچھ اور پھولیں۔ ہاں،؟ مانو کے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا۔وہ پانی پیتے پیتے رک گی۶ تھی۔لگتا ہے بیٹی تمہیں فرج کے پانی کی عادت ہے سادہ پانی پی نہیں پارہی تم ؟ وہ اپنے مطلب پر آگی۶ تھیں۔ جی نہیں مجھے فرج کے پانی کی عادت بلکل نہیں ہ...

بگلہ بھگت مزاحیہ تحریر

بگلا بھگت  ہمیں" بگلا بھگت "کو ڈھونڈنے تھوڑا پیچھے جانا پڑا۔لیکن گھبرا ئیے نہیں ،ہم زیادہ پیچھے نہیں لے جایں گےکہ آپ لوگ واپس ہی نہ آسکیں۔ دراصل یہ ہمارے کالج کے دنوں کی بات ہے ۔ کالج ہمارے گھر سے اچھا خاصا دور تھا۔ہمارا گھر مشرق تو کالج مغرب میں واقع تھا۔آنے جانے کی ہمیشہ سے تکلیف تھی۔حالانکہ بس کی سہولت تو تھی ،مگر ہمیں اس بس سے زیادہ اپنی گیارہ نمبر کی بس پر زیادہ بھروسہ تھا۔اس لۓ اکثر پیدل ہی جایا کرتے تھے۔ اس دن بھی کالج بارہ بجے ختم ہوا اور ہم اپنی فرینڈ کے ساتھ نکلے،بارش ہلکی ہلکی ہورہی تھی ۔ہماری فرینڈ نے کہا کہ چلو،شیرنگ آٹو لےلیتے ہیں۔ ہم ٹہرے ازل کے معصوم،شیرنگ آٹو کی الف ب سے بھی ناواقف،ہامی بھرلی۔آٹو ملا تو ہماری بگلی بھگت فرینڈ جلدی سے کارنر والی سیٹ پر بیٹھ گئ اور ہمیں بازو والی سیٹ پر بٹھا دیا۔ہم ابھی سنبھل کر بیٹھے بھی نہیں تھے کہ دوسری جانب سے ایک نوجوان بیٹھنے لگا،ہماری تو سٹی گم ہوگئی،حواس باختہ ہوگۓ۔اس نے جیسے ہی آٹو میں اپنا سر  ڈالاہم نے اتنی ہی تیزی سے سر دھڑ کی بازی لگاتے ہوئے اپنا آپ کو آٹو سے باہر نکالا،ہماری دشمن نما فرینڈ بھی دبی دبی مسکرا...

Rishte ka almiya

تصویر

کچھ عمیرہ احمد کے ناول پیر کامل کے بارے میں

کچھ عمیرہ احمد کے ناول  پیر کامل کے بارے میں عمیرہ احمد کا یہ ناول بے انتہا مقبول ہواہے۔اور یہ ناول اس قابل ہے کہ اسے آپ بار بار پڑھیں۔ عمیرہ احمد نے اس ناول کو بہت خوبصورتی سے لکھا ہے۔بنیادی طور پر یہ ناول ایک قادیانی لڑکی اور ایک سنی مسلمان کے گرد گھومتی ہے۔امامہ اور سالار کے گرد۔امامہ دین حق کو پا کر مسلمان تو بنتی ہے مگر اسے اپنے تمام قریبی رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے۔سالار اگرچیکہ ایک غیر مزہبی ،مغرور اکھڑ انا پرست انسان ہوتے ہوے امامہ جیسی تنہا بےبس لڑکی کی مدد کرتا ہے یہاں سالار کے کردار کی ایک جھلک نظر آتی ہے کہ وہ بدکردار ہوتے ہوئے بھی کچھ اخلاق رکھتا ہے۔ وہیں دوسری طرف امامہ سالار کو سخت ناپسند کرتی ہے۔لیکن حالات کے مدنظر اسے سالار جیسے شخص سے مدد لینی پڑتی ہے۔وہ اسلام کے لیے آخری حد تک سنجیدہ ہے۔اور اسکا ہر قدم فیصلہ کن ہے۔ عمیرہ احمد نے اس ناول میں ان دونوں کی عمر ظاہر نہی کی ہے البتہ ناول پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ دونوں ہی اٹھارہ انیس کے لگ بھگ ہونگے۔یہاں ان دونوں کرداروں کی پختہ سوچ کم عمر ی میں ہی ظاہر ہوتی ہے۔ ناول تھوڑا طویل ضرور ہے لیکن اگ...